“Bowing low in deep prostration, drenched in sweat from head to toe, henna melts in sheer bashfulness upon your modest feet.”
مہندی تم جیسی باحیا کے قدموں پر آ کر شرم کے مارے سر سے پاؤں تک پسینے سے تر ہو گئی ہے اور سجدے میں اپنا سر جھکائے ہوئے ہے۔
اس شعر میں شاعر نے مہندی کو ایک باادب عاشق کے روپ میں پیش کیا ہے۔ محبوب کی حیا اور پاکیزگی اس قدر باوقار ہے کہ پاؤں چھوتے ہی مہندی بھی مارے شرم کے سجدے میں گر پڑتی ہے اور سر سے پاؤں تک پسینے سے تر ہو جاتی ہے۔ یہ دراصل محبوب کی پاکیزہ شرم و حیا کی وہ دلکش تصویر ہے جس کے آگے خوبصورتی خود سر جھکا کر نم ہو جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
