غزل

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو

دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو
شاکر ناجی· Ghazal· 5 shers· radif: को

یہ غزل دل کے اسرار اور عشق کی والہانہ کیفیت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دل کی حقیقت اور خود شناسی جیتے جی ہی حاصل کی جا سکتی ہے، بعد از مرگ نہیں۔ ساتھ ہی، اس میں دنیاوی آسائشوں کو ترک کر کے محبوب کی یاد میں مستغرق رہنے کی کیفیت کو خوبصورتی سے سمیٹا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
दिल का खोज न पाया हरगिज़ देखा खोल जो क़ब्रों को जीते जी ढूँडे सो पावे ख़बर करो बे-ख़बरों को
دل کا کھوج نہ پایا ہرگز دیکھا کھول جو قبروں کو جیتے جی ڈھونڈے سو پاوے خبر کرو بے خبروں کو
قبروں کو کھول کر دیکھنے پر بھی دل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اسے وہی پا سکتا ہے جو جیتے جی تلاش کرے، اس لیے بے خبروں کو اس بات کی اطلاع کر دو۔
2
तोशक बाला पोश रज़ाई है भूले मजनूँ बरसों तक जब दिखलावे ज़ुल्फ़ सजन की बन में आवते अब्रों को
توشک بالا پوش رضائی ہے بھولے مجنوں برسوں تک جب دکھلاوے زلف سجن کی بن میں آوتے ابروں کو
جب محبوب کی زلفیں جنگل میں آنے والے بادلوں کو اپنا جلوہ دکھاتی ہیں، تو مجنوں برسوں تک توشک، چادر اور رضائی کے تمام آرام بھول جاتا ہے۔
3
काफ़िर नफ़स हर एक का तरसा ज़र कूँ पाया बख़्तों सीं आतिश की पूजा में गुज़री उम्र तमाम उन गब्रों को
کافر نفس ہر ایک کا ترسا زر کوں پایا بختوں سیں آتش کی پوجا میں گزری عمر تمام ان گبروں کو
ہر ایک کا کافر نفس سونے کے لیے ترسا اور اس نے اپنی قسمت سے اسے پا بھی لیا، لیکن ان آتش پرستوں کی تمام عمر آگ کی پوجا ہی میں گزر گئی۔
4
मर्द जो आजिज़ हो तन मन सीं कहे ख़ुश-आमद बावर कर मोहताजी का ख़ासा है रूबाह करे है बबरों को
مرد جو عاجز ہو تن من سیں کہے خوش آمد باور کر محتاجی کا خاصا ہے روباہ کرے ہے ببروں کو
اس بات کا یقین رکھو کہ جب انسان تن من سے لاچار و مجبور ہو جاتا ہے تو خوشامد کرنے لگتا ہے، کیونکہ محتاجی کی یہ خصلت ہے کہ وہ شیروں کو بھی لومڑی بنا دیتی ہے۔
5
वादा चूक फिर आया 'नाजी' दर्स की ख़ातिर फड़के मत छूट गले तेरे ऐ ज़ालिम सब्र कहाँ बे-सब्रों को
وعدا چوک پھر آیا ناجیؔ درس کی خاطر پھڑکے مت چھوٹ گلے تیرے اے ظالم صبر کہاں بے صبروں کو
ناجی وعدہ خلافی کے بعد پھر واپس آ گیا ہے، اس لیے صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے چین مت ہو۔ اے ظالم محبوب، وہ فوراً تیرے گلے سے آ لگا ہے کیونکہ بے چین لوگوں میں صبر کہاں ہوتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.