“Each infidel soul yearned for gold, bestowed by fortune's grace, yet worshipping the sacred fire, those pagans spent all their days.”
ہر ایک کا کافر نفس سونے کے لیے ترسا اور اس نے اپنی قسمت سے اسے پا بھی لیا، لیکن ان آتش پرستوں کی تمام عمر آگ کی پوجا ہی میں گزر گئی۔
اس شعر میں شاعر انسان کے سرکش نفس اور دنیاوی لالچ کی بڑی موثر تصویر کشی کرتے ہیں۔ انسان کا نفس ہمیشہ دولت اور آسائشوں کی پیاس میں جلتا رہتا ہے، اور نصیب سے سب کچھ مل جانے کے بعد بھی یہ بھوک کبھی نہیں مٹتی۔ شاعر نے آتش پرستوں کا استعارہ باندھ کر بتایا ہے کہ کس طرح انسان اپنی پوری عمر تمناؤں اور ہوس کی آگ کو پوجتے ہوئے ضائع کر دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
