مرد جو عاجز ہو تن من سیں کہے خوش آمد باور کر محتاجی کا خاصا ہے روباہ کرے ہے ببروں کو

“Believe this: when a man is brought low in body and soul, he stoops to flattering pleas; for such is the nature of dire want, it turns even mighty lions into timid foxes.”

— شاکر ناجی
معنی

اس بات کا یقین رکھو کہ جب انسان تن من سے لاچار و مجبور ہو جاتا ہے تو خوشامد کرنے لگتا ہے، کیونکہ محتاجی کی یہ خصلت ہے کہ وہ شیروں کو بھی لومڑی بنا دیتی ہے۔

تشریح

یہ شعر انسانی بے بسی اور محتاجی کی ایک انتہائی تلخ اور سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ شاعر نے ببر شیر اور لومڑی کے استعارے سے خوبصورتی سے سمجھایا ہے کہ جب انسان جسم اور جان سے ٹوٹ جائے تو اس کی خودداری خوشامد میں بدل جاتی ہے۔ محتاجی کی فطرت ہی ایسی ظالم ہے کہ وہ بڑے بڑے بہادروں اور باوقار انسانوں کو بھی حالات کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.