“No trace of the heart was ever found, though graves were unsealed and sought; Who searches in life alone shall find—let the unaware be taught.”
قبروں کو کھول کر دیکھنے پر بھی دل کا کوئی سراغ نہ ملا۔ اسے وہی پا سکتا ہے جو جیتے جی تلاش کرے، اس لیے بے خبروں کو اس بات کی اطلاع کر دو۔
شاعر ایک گہری حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ قبروں کو کھنگالنے سے بھی دل کا کوئی سراغ نہیں ملتا، کیونکہ مٹی کے نیچے تو صرف فانی جسم رہ جاتا ہے۔ دل دراصل محبت، بیداری اور روحانی حقیقت کا مظہر ہے، جسے زندگی کے رخصت ہونے کے بعد تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ شعر دراصل اُن غافلوں کے لیے ایک محبت بھری پکار ہے کہ اگر روح کی سچی منزل پانی ہے، تو اسی جیتے جاگتے سانسوں کے سفر میں تلاش کرو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
