“Mattress, coverlet, and quilt—Majnun forgot them all for years on end, / Whenever the beloved's dark tresses showed themselves to the wilderness clouds.”
جب محبوب کی زلفیں جنگل میں آنے والے بادلوں کو اپنا جلوہ دکھاتی ہیں، تو مجنوں برسوں تک توشک، چادر اور رضائی کے تمام آرام بھول جاتا ہے۔
اس شعر میں عشق کی دیوانگی اور مجنوں کی وارفتگی کا دلکش نقشہ کھینچا گیا ہے۔ صحراؤں کی خاک چھانتا مجنوں توشک، لحاف اور رضائی جیسے تمام دنیاوی آرام برسوں پہلے فراموش کر چکا ہے۔ بن میں جب محبوب کی گھنی اور سیاہ زلفیں جھومتے بادلوں کو اپنا جلوہ دکھاتی ہیں، تو ان زلفوں کا سایہ ہی اس کے لیے سب سے بڑی آسائش اور پرسکون پناہ گاہ بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
