غزل

اے صبا کہہ بہار کی باتیں

اے صبا کہہ بہار کی باتیں
شاکر ناجی· Ghazal· 5 shers· radif: की बातें

اس غزل میں شاعر بادِ صبا سے اپنے گل رخ محبوب اور موسمِ بہار کے تذکرے چھیڑنے کی التجا کرتا ہے۔ اس میں حسن و عشق کے لطیف جذبات، وصل کی تمنا اور محبوب کی نگاہِ ناز کی قاتلانہ اداؤں کو دلکش پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
ऐ सबा कह बहार की बातें इस बुत-ए-गुल-एज़ार की बातें
اے صبا کہہ بہار کی باتیں اس بت گل عذار کی باتیں
اے صبح کی ہوا، بہار کے موسم کا احوال سنا اور اس گلاب جیسے چہرے والے محبوب کی باتیں بیان کر۔
2
किस पे छोड़े निगाह का शहबाज़ क्या करे है शिकार की बातें
کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز کیا کرے ہے شکار کی باتیں
وہ اپنی نظر کا شہباز کس پر چھوڑے گا اور وہ بلاوجہ شکار کی باتیں کیوں کر رہا ہے؟
3
मेहरबानी सीं या हों ग़ुस्से सीं प्यारी लगती हैं यार की बातें
مہربانی سیں یا ہوں غصے سیں پیاری لگتی ہیں یار کی باتیں
خواہ مہربانی و محبت سے کہی جائیں یا غصے کے عالم میں، محبوب کی باتیں ہمیشہ پیاری ہی لگتی ہیں۔
4
छोड़ते कब हैं नक़्द-ए-दिल कूँ सनम जब ये करते हैं प्यार की बातें
چھوڑتے کب ہیں نقد دل کوں صنم جب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں
محبوب جب بھی پیار کی باتیں کرتے ہیں تو وہ دل کی دولت کو کبھی نہیں چھوڑتے بلکہ اسے لوٹ لیتے ہیں۔
5
पूछिए कुछ कहें हैं कुछ 'नाजी' आ पड़ीं रोज़गार की बातें
پوچھیے کچھ کہیں ہیں کچھ ناجیؔ آ پڑیں روزگار کی باتیں
اے ناجی، ان سے کچھ پوچھیے تو وہ کچھ اور ہی کہتے ہیں، کیونکہ درمیان میں روزگار اور دنیا کے کام کاج کی باتیں آ گئی ہیں۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.