اے صبا کہہ بہار کی باتیں اس بت گل عذار کی باتیں

“O gentle morning breeze, tell tales of the spring, / And whispers of that rose-cheeked idol bring.”

— شاکر ناجی
معنی

اے صبح کی ہوا، بہار کے موسم کا احوال سنا اور اس گلاب جیسے چہرے والے محبوب کی باتیں بیان کر۔

تشریح

اس شعر میں شاعر صبح کی معطر ہوا یعنی صبا کو اپنا رازدار بنا کر مخاطب کرتا ہے کہ وہ اسے بہار کی کہانیاں سنائے۔ اردو شاعری میں بہار کی رونق اور محبوب کا حسن ایک دوسرے کا عکس ہیں، اس لیے موسمِ گل کا تذکرہ دراصل اسی گلاب جیسے رخساروں والے محبوب کی بات ہے۔ یہ شعر دل کی اس پیاری تڑپ کو ظاہر کرتا ہے جہاں عاشق ہر لمحہ بس اپنے محبوب کے چرچے سننا چاہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.