“Ask him of one thing, he speaks of quite another, O Naji; alas, the burdensome cares of livelihood have intervened.”
اے ناجی، ان سے کچھ پوچھیے تو وہ کچھ اور ہی کہتے ہیں، کیونکہ درمیان میں روزگار اور دنیا کے کام کاج کی باتیں آ گئی ہیں۔
ناجیؔ نے اس شعر میں معاشی پریشانیوں اور روزمرہ کی تلخ حقیقتوں کا بڑا دلنشین نقشہ کھینچا ہے۔ کوئی ان سے دل یا محبت کا احوال پوچھتا ہے تو روزی روٹی کی الجھنوں میں گھرا ذہن بھٹک کر دنیا داری کی طرف نکل جاتا ہے اور وہ جواب کچھ اور ہی دے بیٹھتے ہیں۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ زندگی کا بوجھ کس طرح انسان کے رومانوی خوابوں اور نازک جذبوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
