“When do these idols ever spare the heart's ready coin / Whenever they begin to speak sweet words of love?”
محبوب جب بھی پیار کی باتیں کرتے ہیں تو وہ دل کی دولت کو کبھی نہیں چھوڑتے بلکہ اسے لوٹ لیتے ہیں۔
شاعر نے اس شعر میں دل کو نقد رقم یا کھری دولت سے تشبیہ دی ہے، جسے محبوب اپنی میٹھی اور دلفریب باتوں سے پلک جھپکتے ہی لوٹ لیتا ہے۔ صنم کے لبوں سے نکلی پیار کی باتیں ایک ایسا جادو ہیں جس کے سامنے دل کوئی مزاحمت نہیں کر پاتا۔ یہ عاشق کی ایک پُرلطف اور شیریں بے بسی ہے، جہاں وہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی محبوب کی دلنوازیوں پر اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
