“Upon whom would he loose the falcon of his glance? / Why does he boast so idly of the hunt?”
وہ اپنی نظر کا شہباز کس پر چھوڑے گا اور وہ بلاوجہ شکار کی باتیں کیوں کر رہا ہے؟
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی تیکھی نگاہ کو ’شہباز‘ یعنی شکاری باز سے بڑی خوبصورت تشبیہ دی ہے۔ وہ شوخی اور طنز کے لہجے میں پوچھتے ہیں کہ جب نگاہ کا باز چھوڑنے کے لیے سامنے کوئی نشانہ ہی نہیں، تو پھر شکار کی یہ لمبی چوڑی باتیں کیسی؟ یہ شعر محبوب کے اس ناز اور شوخ غرور پر ایک پیاری سی چٹکی ہے، جہاں دعوے تو دل گھائل کرنے کے ہیں مگر حقیقت میں کوئی صید نظر نہیں آتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
