غزل
موسیٰ نے جسے جلوہ نما طور سے دیکھا
موسیٰ نے جسے جلوہ نما طور سے دیکھا
یہ غزل تجلیاتِ الٰہی کے مشاہدے اور روحانی عرفان پر مبنی ہے، جس میں حضرت موسیٰؑ اور کوہِ طور کا تلمیحی ذکر ملتا ہے۔ شاعر صوفیانہ عاجزی کے ساتھ یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ ذاتِ حق کا دیدار انسانی کوشش سے نہیں بلکہ خود اسی کے فضل اور نور کی بدولت ممکن ہوتا ہے۔
Source: Divan-e-Turab · HI
نغمہ سنیں
1
मूसा ने जिसे जल्वा-नुमा तूर से देखा
कल्बर्क़ उसे मैंने भी कल दूर से देखा
موسیٰ نے جسے جلوہ نما طور سے دیکھا
کالبرق اسے مینے بھی کل دُور سے دیکھا
حضرت موسیٰ نے جس جلوے کو کوہِ طور پر ظاہر ہوتے دیکھا تھا، کل بجلی کی چمک کی مانند میں نے بھی اُسے دور سے دیکھا۔
2
गर वो न दिखाता उसे देखते क्या हम
उस नूर को हमने तो उसी नूर से देखा
گر وہ نہ دکھاتا اسے دیکھتے کیا ہم
اوس نور کو ہمنے تو اوسی نور سے دیکھا
اگر وہ خود نہ دکھاتا تو ہم اسے کیسے دیکھ سکتے؟ اس نور کو ہم نے خود اسی کے نور کے ذریعے دیکھا ہے۔
3
इक तरहका हो वे तो किसी से कहूँ तारीफ़
सौ तरहका नाज़ उस बुत-ए-मग़रूर से देखा
اک طرحکا ہو وے تو کسی سے کہوں تعریف
سو طرحکا ناز اوس بتِ مغرور سے دیکھا
اگر اس کا انداز کسی ایک طرح کا ہوتا تو میں کسی سے اس کی تعریف کرتا، مگر میں نے اس مغرور محبوب سے سینکڑوں قسم کے ناز و نخرے دیکھے ہیں۔
4
कब हुस्न में हो हूर-ओ-परी उसके मुक़ाबिल
उस रश्क-ए-परी को तो परी हूर देखा
کب حسن میں ہو حور و پری اُسکے مقابل
اوس رشک پری کو تو پری حور دیکھا
خوبصورتی میں حور اور پری بھلا اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس رشکِ پری محبوب کو تو خود پریاں اور حوریں بھی حیرت سے دیکھتی ہیں۔
5
हमको तो बहुत रंज दिये इश्क़ में दिल ने
क्या क्या न तुराब इस दिल-ए-रंजूर से देखा
ہمکو تو بہت رنج دے عشق میں دل نے
کیا کیا نہ ترابؔ اس دلِ رنجور سے دیکھا
عشق میں دل نے ہمیں بہت غم اور دکھ دیے ہیں؛ اے ترابؔ، اس رنجیدہ اور دکھی دل کی وجہ سے ہم نے کیا کچھ نہیں سہا اور دیکھا!
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
