“In love, my own heart has brought me endless grief; O Turab, what trials haven't I suffered from this sorrow-stricken heart!”
عشق میں دل نے ہمیں بہت غم اور دکھ دیے ہیں؛ اے ترابؔ، اس رنجیدہ اور دکھی دل کی وجہ سے ہم نے کیا کچھ نہیں سہا اور دیکھا!
اس شعر میں شاعر محبوب سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنے ہی دل کا نوحہ پڑھتا ہے، جس نے عشق کے سودے میں اسے بے پناہ درد دیے۔ ’دلِ رنجور‘ کا استعارہ اس بیمار اور خستہ حال دل کی تصویر کشی کرتا ہے جو مصیبتوں کو خود گلے لگاتا رہا اور شاعر کو ہر امتحان سے گزارتا رہا۔ اس میں ایک گہری حسرت اور بے بسی چھپی ہے، جیسے انسان اپنے ہی سینے میں دھڑکتے اس نادان ساتھی کے ہاتھوں تھک ہار گیا ہو۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
