“Had He not revealed it, how could we have ever seen? That Light we beheld only through that very Light.”
اگر وہ خود نہ دکھاتا تو ہم اسے کیسے دیکھ سکتے؟ اس نور کو ہم نے خود اسی کے نور کے ذریعے دیکھا ہے۔
یہ شعر تصوف کے ایک نہایت عمیق راز کو کمال سادگی کے ساتھ آشکار کرتا ہے۔ شاعر کا احساس ہے کہ انسان کی محدود نظر میں اتنی تاب کہاں کہ وہ خود اپنی بساط پر اس ذاتِ کبریا کے جلووں کا ادراک کر سکے۔ بالکل ویسے ہی جیسے سورج کو دیکھنے کے لیے سورج ہی کی روشنی درکار ہوتی ہے، اس نورِ الٰہی کی معرفت اور دید کا شرف بھی محض اسی کی عنایت اور عطا کردہ نور کے طفیل ممکن ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
