“How could a houri or fairy ever match her in beauty and grace? Fairies and houris themselves marvel at that envy of their race.”
خوبصورتی میں حور اور پری بھلا اس کے برابر کیسے ہو سکتی ہیں؟ اس رشکِ پری محبوب کو تو خود پریاں اور حوریں بھی حیرت سے دیکھتی ہیں۔
اردو شاعری میں حسن کی انتہا بیان کرنے کے لیے حور اور پری کا استعارہ عام ہے، لیکن شاعر اپنے محبوب کو ان سے بھی کہیں برتر بتاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حور اور پری تو اس کے سامنے کیا ٹھہریں گی، بلکہ وہ خود اس پیکرِ حسن کو حیرت اور رشک سے تکتی رہ جاتی ہیں۔ یہ محبوب کی بے مثال اور دلکش خوبصورتی کا ایک لاجواب اور والہانہ اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
