اک طرحکا ہو وے تو کسی سے کہوں تعریف سو طرحکا ناز اوس بتِ مغرور سے دیکھا

“Were it of a single shade, I would tell someone in praise; but a hundred haughty airs have I witnessed from that proud idol.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

اگر اس کا انداز کسی ایک طرح کا ہوتا تو میں کسی سے اس کی تعریف کرتا، مگر میں نے اس مغرور محبوب سے سینکڑوں قسم کے ناز و نخرے دیکھے ہیں۔

تشریح

شاعر اپنے محبوب کو ’بتِ مغرور‘ کہتا ہے جو دلکش بھی ہے، بے پروا بھی اور ہر پل بدلتے نخروں سے بھرا ہوا۔ عاشق کہتا ہے کہ اگر اس کے غرور اور ادا کا کوئی ایک ٹھوس انداز ہوتا تو انسان کسی سے اس کے حسن کا چرچا بھی کرتا۔ مگر اس صنم کے تو سو سو انوکھے ناز اور بیزاریاں ہیں، جنہیں دیکھ کر عاشق حیرت کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے اور لفظ اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.