غزل
لکھا تعویذ کسنے آہ اس لڑکی کو داسی کا
لکھا تعویذ کسنے آہ اس لڑکی کو داسی کا
یہ غزل عشق کی بے بسی، گہری تڑپ اور دل کے اضطراب کو موضوع بناتی ہے۔ تعویذ، افسوں اور نہ بجھنے والی پیاس کی علامتوں کے ذریعے شاعر نے محبت کی اسیری اور قلبی بے قراری کو نہایت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔
Source: Divan-e-Turab · HI
نغمہ سنیں
1
लिखा तावीज़ किसने आह इस लड़की को दासी का
पढ़ा ही किसने अफ़सून हाय मेरी हवासी का
لکھا تعویذ کسنے آہ اس لڑکی کو داسی کا
پڑھا ہی کسنے افسون ہای میری حواسی کا
ہائے، اس لڑکی کو باندی بنانے کے لیے کس نے تعویذ لکھا، اور میری شدید خواہش کی تسکین کے لیے کس نے جادو کا منتر پڑھا؟
2
ज़रा भली बरंसियान जबतक पानी न बरसाद
करे मुंह बंद दरिया किसतरह सही प्यासी का
ذرا بھلی برنسیان جبتک پانی نہ برساد
کرے منہ بند دریا کسطرح سہی پیاسی کا
جب تک بادلوں سے بارش نہ برسے، تب تک کوئی دریا کسی سچے پیاسے کی پیاس بجھا کر اس کا منہ کس طرح بند کر سکتا ہے۔
3
ज़बान उसकी हुई गूंग जिसख़ुदा उसको पहचाना
वो आरिफ़ ही नहीं हवा कर ओ जो हक़-शनासी का
زبان اسکی ہوئی گونگ جسخدا وسکو پہچانا
وہ عارف ہی نہیں حوا کر و جو حق شناسی کا
جس نے خدا کو پہچان لیا اس کی زبان خاموش ہو گئی، اور جو خدا کو جاننے کا دعویٰ کرے وہ سچا عارف ہو ہی نہیں سکتا۔
4
अदा-ए-शुक्र-ए-नेमत हो ख़ुदा की बंदगी करना
ख़िलाफ़-ए-मर्ज़ी-ए-मोहसिन निशान ना-सिपासी का
اداے شکر نعمت ہو خدا کی بندگی کرنا
خلاف مرضی محسن نشان ناسپاسی کا
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا دراصل اس کی عبادت کرنا ہے، اور اپنے محسن کی مرضی کے خلاف چلنا ناشکری کی علامت ہے۔
5
नहोती गर मद ओ पीरोंकी पर्दा था खुल जाता
तुराब ऐसे ख़राब अहवाल दरवेश-लिबासी का
نہوتی گر مد و پیرونکی پردہ تھا کھل جاتا
تراب ایسے خراب احوال درویش لباسی کا
اے تراب، اگر پیروں اور بزرگوں کی مدد نہ ہوتی تو پردہ کھل جاتا اور اس درویشی لباس کے پیچھے چھپی ہوئی بدحالی سب پر ظاہر ہو جاتی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
