“Who inscribed an amulet, alas, to make this maiden my slave? Who ever chanted an enchantment for the longing that I crave?”
ہائے، اس لڑکی کو باندی بنانے کے لیے کس نے تعویذ لکھا، اور میری شدید خواہش کی تسکین کے لیے کس نے جادو کا منتر پڑھا؟
اس شعر میں شاعر اپنی بے قابو طلب اور عشق کی حسرت کو سحر اور طلسم کے استعارے میں بڑی خوبصورتی سے پروتا ہے۔ وہ درد بھرے انداز میں پوچھتا ہے کہ بھلا وہ تعویذ کس نے لکھا جو اس نازنین کو میری داسی یا مطیع بنا سکے؟ ساتھ ہی وہ اپنی بے قرار خواہش کا رونا روتا ہے کہ ایسی سرکش اور دیوانی چاہت کو قابو کرنے کے لیے تو آج تک کوئی فسوں یا منتر پڑھا ہی نہیں گیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
