“To offer thanks for every grace is worship of the Divine; to cross the Benefactor's will is ungratefulness's sign.”
خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا دراصل اس کی عبادت کرنا ہے، اور اپنے محسن کی مرضی کے خلاف چلنا ناشکری کی علامت ہے۔
شاعر یہاں بندگی اور شکر گزاری کا بڑا دل نشین مفہوم سمجھا رہے ہیں کہ خدا کی عبادت دراصل اس کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کا سچے دل سے شکر ادا کرنا ہے۔ جب کوئی ذات ہم پر اتنے احسانات کرے تو اس کی مرضی کے الٹ چلنا محض نافرمانی نہیں بلکہ بدترین احسان فراموشی کی علامت ہے۔ اس لیے حقیقی عبادت صرف رسمی سجدے نہیں بلکہ محسنِ حقیقی کی رضا میں اپنی رضا تلاش کرنا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
