“Had the holy elders not lent their aid, the veil would have been torn away; Turab, such a wretched plight this dervish cloak has hidden away.”
اے تراب، اگر پیروں اور بزرگوں کی مدد نہ ہوتی تو پردہ کھل جاتا اور اس درویشی لباس کے پیچھے چھپی ہوئی بدحالی سب پر ظاہر ہو جاتی۔
اس شعر میں تراب بڑی عاجزی اور خلوص کے ساتھ اپنے ظاہر اور باطن کے فرق کا اعتراف کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے صوفیوں اور درویشوں کا لبادہ تو اوڑھ رکھا ہے، مگر میرا اندرونی حال حد درجہ شکستہ اور خراب ہے۔ یہ تو محض میرے پیروں اور بزرگوں کی عنایت اور دعا کا سایہ ہے جس نے میری پردہ پوشی کر رکھی ہے، ورنہ میرا بھرم زمانے کے سامنے کب کا کھل چکا ہوتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
