“Mute grew the tongue of whoever truly recognized the Divine; he is no true mystic who boasts of knowing the Truth sublime.”
جس نے خدا کو پہچان لیا اس کی زبان خاموش ہو گئی، اور جو خدا کو جاننے کا دعویٰ کرے وہ سچا عارف ہو ہی نہیں سکتا۔
تصوف کی دنیا میں یہ ایک گہری حقیقت ہے کہ جس دل نے حقیقتِ الٰہی کا سچا مشاہدہ کر لیا، اس کی زبان حیرت اور عاجزی کے سبب خاموش ہو جاتی ہے۔ خدا کا عرفان الفاظ کی وسعت سے ماورا ہے، اس لیے وہ لمحہ بندے کو گنگ کر دیتا ہے۔ شاعر اسی لطیف نکتے کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ جو معرفت اور حق شناسی کا دعویٰ کرتا پھرے، وہ حقیقت میں عارف ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سچی معرفت انسان سے دعوے چھین کر خاموشی کا فیض عطا کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
