“Until the heavens pour down their rain upon the earth, how can a river ever silence the cries of the truly parched?”
جب تک بادلوں سے بارش نہ برسے، تب تک کوئی دریا کسی سچے پیاسے کی پیاس بجھا کر اس کا منہ کس طرح بند کر سکتا ہے۔
یہ شعر روح کی گہری پیاس اور اس کی تسکین کی بڑی دلکش عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جب تک آسمان سے رحمت کا مینہ نہ برسے، دنیا کا کوئی بھی دریا کسی سچے پیاسے کے کرب کو خاموش نہیں کر سکتا۔ یعنی دل کی سچی تڑپ اور باطنی تشنگی دنیاوی سہاروں سے دور نہیں ہوتی، اسے بجھانے کے لیے حقیقی لطف اور غیبی عنایت کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
