غزل

جسنے کوئی یوسف کوئی یعقوب بنایا

جسنے کوئی یوسف کوئی یعقوب بنایا

یہ غزل محبت کی ازلی اور تقدیراتی حیثیت کو بیان کرتی ہے، جس میں حضرت یوسفؑ اور حضرت یعقوبؑ کے تمثیلی تعلق کے ذریعے عاشق اور محبوب کے رشتے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شاعر نہایت والہانہ اور عقیدت مندانہ انداز میں واضح کرتا ہے کہ یہ عشق محض ایک جذباتی میلان نہیں بلکہ اسی رب کی عطا ہے جس نے ایک کو طالب اور دوسرے کو مطلوب بنایا۔

Source: Divan-e-Turab · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिसने कोई यूसुफ़ कोई याक़ूब बनाया उसने मुझे तालिब तुझे मतलूब बनाया
جسنے کوئی یوسف کوئی یعقوب بنایا اوسنے مجھے طالب تجھے مطلوب بنایا
جس رب نے کسی کو یوسف جیسا حسین اور کسی کو یعقوب جیسا فراق زدہ بنایا، اسی نے مجھے طلب گار اور تجھے میرا مطلوب بنایا ہے۔
2
बख़्शे हो उसे ने तो मुझे तेरी मोहब्बत प्यारे मेरे जिसने तुझे महबूब बनाया
بخشے ہو اوسے نے تو مجھے تیری محبت پیارے مرے جسنے تجھے محبوب بنایا
اے میرے پیارے، جس ذات نے تجھے محبوب بنایا ہے، وہی مجھے تیری محبت بھی عطا فرمائے۔
3
हमको तो नज़र पड़ती है सब ख़ूबी उसीकी जिसने तुझे ख़ूबों में बहुत ख़ूब बनाया
ہمکو تو نظر پڑتی ہے سب خوبی اوسیکی جسنے تجھے خوبون مین بہت خوب بنایا
مجھے تو صرف اسی بنانے والے کا کمال نظر آتا ہے جس نے تم کو تمام خوبصورتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت بنایا ہے۔
4
कहते हो जुदाई में करो सब्र हमारी क्या दिलको मेरे आप ने अय्यूब बनाया
کہتے ہو جدائی مین کرو صبر ہماری کیا دلکو مرے آپ نے ایوب بنایا
آپ کہتے ہیں کہ جدائی میں صبر کرو؛ کیا آپ نے میرے دل کو حضرت ایوب بنا دیا ہے؟
5
जसद नसरीन चाहा उसे सरनाई लगाओ शोख़ी ने मेरी यार को महजूब बनाया
جسد نسرین چاہا اسے سرنائی لگاو شوخی نے مری یار کو محجوب بنایا
میں نے اپنے نازک محبوب کو سرمہ لگانا چاہا، لیکن میری اس شوخی نے میرے یار کو شرمسار اور باحجاب بنا دیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.