“To my eyes, all perfection belongs solely to Him; Who fashioned you fairest among all the fair.”
مجھے تو صرف اسی بنانے والے کا کمال نظر آتا ہے جس نے تم کو تمام خوبصورتوں میں سب سے زیادہ خوبصورت بنایا ہے۔
اس شعر میں عاشق اپنے محبوب کے حسن کی تعریف کرتے ہوئے دراصل اس قادرِ مطلق کی کاریگری کو سراہتا ہے جس نے اسے اتنے پیار سے تراشا۔ شاعر کہتا ہے کہ تمہاری بے پناہ دلکشی مجھے اس مصورِ ازل کی یاد دلاتی ہے جس نے تمام خوبصورتوں میں تمہیں سب سے لاجواب بنایا۔ یہاں دنیاوی محبت بڑی خوبصورتی سے عشقِ حقیقی اور روحانیت کا روپ دھار لیتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
