جسد نسرین چاہا اسے سرنائی لگاو شوخی نے مری یار کو محجوب بنایا

“I longed to line those tender eyes with kohl's soft trace, / But my playful daring made my love turn shy and hide her face.”

— شاہ تراب علی قلندر
معنی

میں نے اپنے نازک محبوب کو سرمہ لگانا چاہا، لیکن میری اس شوخی نے میرے یار کو شرمسار اور باحجاب بنا دیا۔

تشریح

اس شعر میں محبت کی ایک نہایت لطیف اور دلکش شوخی کو بیان کیا گیا ہے۔ عاشق اپنے پھول جیسے نازک محبوب کے حسن کو سنوارنے اور اس کی آنکھوں میں سرمہ لگانے کا آرزومند تھا، جو دلی قربت کا اظہار ہے۔ مگر عاشق کی یہی بے تکلفی اور شوخی محبوب پر گراں گزری اور وہ شرم و حیا کے پردے میں سمٹ کر رہ گیا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.