غزل
اے دل جنابِ قدس میں تُو کب سا ہوا؟
اے دل جنابِ قدس میں تُو کب سا ہوا؟
یہ غزل مادی الجھنوں اور روحانی بلندی کے باہمی کشمکش کو بیان کرتی ہے، جس میں دل کو دنیاوی فریب سے نکل کر بارگاہِ الٰہی کی سچی طلب اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ جن آنکھوں میں جلوۂ حق بس جاتا ہے، ان میں اس فانی دنیا کے طلسم کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
اے دل جنابِ قدس میں تُو کب سا ہوا؟
دنیا کے پھیر میں ابھی توُ ہے پھنسا ہوا
اے دل، تو پاک بارگاہِ الٰہی تک کب پہنچ سکا ہے؟ تو تو ابھی تک دنیا کے بکھیڑوں اور چکروں میں ہی پھنسا ہوا ہے۔
2
گنجایشِ خیالِ طلسمِ جہاں کہاں؟
آنکھوں میں جس کے جلوۂ حق ہو بَسا ہوا
جس کی آنکھوں میں حق تعالیٰ کا جلوہ بسا ہوا ہو، اس کے پاس اس دنیا کے فریب اور طلسم کے بارے میں سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
3
قطرے کو حُبّ جاہ کے دل سے نکالئے
یہ بے طرح کا چور ہے دل میں دھنسا ہوا
دل سے مرتبے اور شہرت کی محبت کا ایک قطرہ بھی نکال دیجیے۔ یہ ایک ایسا خطرناک چور ہے جو دل کے اندر گہرائی میں دھنسا ہوا ہے۔
4
معیارِ عشق پر زرِ ہمّت لگا کے دیکھ
پکّا جو ہے، طلا ہے، کسوٹی کسا ہوا
عشق کی کسوٹی پر اپنی ہمت کے سونے کو آزما کر دیکھ، جو اس امتحان میں پورا اترتا ہے وہی کسا ہوا کھرا سونا ہے۔
5
گھر کو تو اپنی ہستی کے ویران کر نیازؔ
ہستی سے حق کی پھر وہ رہے گا بسا ہوا
اے نیازؔ، تو اپنے وجود کے گھر کو مٹا کر ویران کر دے، تاکہ پھر وہ ذاتِ حق کے وجود سے آباد اور بسا رہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
