“Where is there room to ponder this world's illusory spell, in eyes where the radiant splendor of Truth has come to dwell?”
جس کی آنکھوں میں حق تعالیٰ کا جلوہ بسا ہوا ہو، اس کے پاس اس دنیا کے فریب اور طلسم کے بارے میں سوچنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
یہ شعر معرفت اور روحانی تسکین کا ایک دلنشیں منظر پیش کرتا ہے، جہاں دنیا کا سارا فریب بے اثر ہو جاتا ہے۔ شاعر اس مادی دنیا کو ایک طلسم یعنی طلسماتی دھوکہ قرار دیتے ہیں جو عام طور پر دلوں کو لبھاتا ہے۔ مگر جس شخص کی نگاہوں میں حق تعالیٰ کا بے پایاں نور اور جلوہ سما جائے، اس کے دل و دماغ میں اس فانی اور جھوٹی دنیا کے خیالوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
