“O heart, when did you ever reach the court of sacred grace? You are still entangled deep within the worldly maze.”
اے دل، تو پاک بارگاہِ الٰہی تک کب پہنچ سکا ہے؟ تو تو ابھی تک دنیا کے بکھیڑوں اور چکروں میں ہی پھنسا ہوا ہے۔
اس شعر میں شاعر اپنے ہی دل سے مخاطب ہو کر اسے حقیقت کا آئینہ دکھاتا ہے اور ایک دھیمی سی ملامت کرتا ہے۔ وہ دل سے پوچھتا ہے کہ تجھے بارگاہِ الٰہی کی پاکیزگی کا سچا شعور بھلا کب حاصل ہوا، تو تو اب بھی دنیا کے جھمیلوں اور فریب کے چکر میں گرفتار ہے۔ یہ دراصل انسان کے اس کھوکھلے پن پر چوٹ ہے جہاں وہ روحانی بلندی کا دعویٰ تو کرتا ہے، مگر مادی الجھنوں سے دامن چھڑا نہیں پاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
