“Lay desolate the dwelling of your own self, O Niaz; with the presence of the Divine Truth, it shall then forever thrive.”
اے نیازؔ، تو اپنے وجود کے گھر کو مٹا کر ویران کر دے، تاکہ پھر وہ ذاتِ حق کے وجود سے آباد اور بسا رہے۔
نیازؔ اس شعر میں تصوف کی ایک بنیادی اور خوبصورت حقیقت کو سادگی سے بیان کرتے ہیں کہ جب تک دل میں انا اور خود پسندی رہے گی، تب تک معرفتِ الٰہی ممکن نہیں۔ وہ باطن کو ایک گھر سے تشبیہ دیتے ہیں جسے اپنے غرور اور دنیاوی وجود سے خالی کرنا ضروری ہے۔ جب انسان اپنی ہستی کو مٹا کر اس گھر کو انا سے ویران کرتا ہے، تبھی وہ ذاتِ حق کے نور سے ہمیشہ کے لیے سچے معنوں میں آباد ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
