غزل

ज़ख़्म झेले दाग़ भी खाए बहुत

ज़ख़्म झेले दाग़ भी खाए बहुत
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کے تجربات اور محبت کے درد کا اظہار کرتی ہے۔ شاعر بیان کرتا ہے کہ اس نے بہت سے زخم برداشت کیے اور داغ بھی سہے، مگر دل لگانے کے بعد اسے بہت پچھتاوا ہوا۔ یہ غزل اس صورتحال کو بیان کرتی ہے جہاں انسان نے اپنی طرف سے بہت کوشش کی، لیکن نتیجہ مایوس کن رہا۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ज़ख़्म झेले दाग़ भी खाए बहुत दिल लगा कर हम तो पछताए बहुत
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
میں نے زخم جھیلے اور داغ بھی کھائے بہت، مگر دل لگا کر تو میں بہت پچھتایا۔
2
जब न तब जागह से तुम जाया किए हम तो अपनी ओर से आए बहुत
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیے ہم تو اپنی اور سے آئے بہت
جب نہ تب جگہ سے تم جا یا کیے، ہم تو اپنی طرف سے آئے بہت۔
3
दैर से सू-ए-हरम आया न टुक हम मिज़ाज अपना इधर लाए बहुत
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹک ہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
کافی وقت بعد، میں حرم کی طرف آیا، لیکن میں اپنے مزاج کو یہاں بہت زیادہ لے آیا۔
4
फूल गुल शम्स ओ क़मर सारे ही थे पर हमें इन में तुम्हीं भाए बहुत
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
گل، گُل، شمس اور قمر سارے ہی تھے، پر ہمیں ان میں تم ہی بہت بھائے۔
5
गर बुका इस शोर से शब को है तो रोवेंगे सोने को हम-साए बहुत
گر بکا اس شور سے شب کو ہے تو روویں گے سونے کو ہم سایے بہت
اگر شہر کا شور اتنا ہے، تو ہم سونے پر روئیں گے، کیونکہ ہم جیسے بہت سے سائے ہیں۔
6
वो जो निकला सुब्ह जैसे आफ़्ताब रश्क से गुल फूल मुरझाए बहुत
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب رشک سے گل پھول مرجھائے بہت
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتاب، رشک سے گل پھول مرجھائے بہت۔
7
'मीर' से पूछा जो मैं आशिक़ हो तुम हो के कुछ चुपके से शरमाए बहुत
میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تم ہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
جب میں نے 'میر' سے پوچھا کہ کیا میں عاشق ہوں، تو تم نے بہت چپکے سے شرما کر جواب دیا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.