غزل
ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी
ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी
یہ غزل جدائی کی انتہا کو بیان کرتی ہے، جہاں دل کی نشہ اور طاقت مکمل طور پر جدائی میں بہہ گئی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ قید دل کو جینا اور آزادی حاصل کرنا اب ممکن نہیں، اور دل کی ہر چیز صاف ہو چکی ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी
या'नी ताक़त आज़माई हो चुकी
دل کی چمک جدائی کے ویرانے میں بدل گئی ہے؛ یعنی، اس کی طاقت کو آزما دیا گیا ہے۔
2
छूटता कब है असीर-ए-ख़ुश-ज़बाँ
जीते जी अपनी रिहाई हो चुकी
خوش زباں کے قیدی کب آزاد ہوں گے، کہ زندہ رہتے ہی ان کی رہائی ہو جائے گی۔
3
आगे हो मस्जिद के निकली उस की राह
शैख़ से अब पारसाई हो चुकी
مسجد سے آگے، اس کی راہ نکل آئی ہے۔ اب وہ شیخ سے پارسی ہو چکی ہے۔
4
दरमियाँ ऐसा नहीं अब आईना
मेरे उस के अब सफ़ाई हो चुकी
درمیان ایسا کوئی آئینہ نہیں ہے، میرے اُس کے اب صفائی ہو چکی ہے۔
5
एक बोसा माँगते लड़ने लगे
इतने ही में आश्नाई हो चुकी
جیسے ہی انہوں نے لڑنے کے لیے ایک بوسہ مانگا، وہ اس قدر میں ہی مطمئن ہو چکے تھے۔
6
बीच में हम ही न हों तो लुत्फ़ क्या
रहम कर अब बेवफ़ाई हो चुकी
بِچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا؟ رحم کر، اب بے وفائی ہو چکی۔
7
आज फिर था बे-हमीयत 'मीर' वाँ
कल लड़ाई सी लड़ाई हो चुकी
آج پھر تم بے حمیّت ہو، میر۔ کل کی لڑائی تو ایک جنگ جیسی تھی۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
