غزل

ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी

ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل جدائی کی انتہا کو بیان کرتی ہے، جہاں دل کی نشہ اور طاقت مکمل طور پر جدائی میں بہہ گئی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ قید دل کو جینا اور آزادی حاصل کرنا اب ممکن نہیں، اور دل کی ہر چیز صاف ہو چکی ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी या'नी ताक़त आज़माई हो चुकी
تاب دل صرف جدائی ہو چکی یعنی طاقت آزمائی ہو چکی
دل کی چمک جدائی کے ویرانے میں بدل گئی ہے؛ یعنی، اس کی طاقت کو آزما دیا گیا ہے۔
2
छूटता कब है असीर-ए-ख़ुश-ज़बाँ जीते जी अपनी रिहाई हो चुकी
چھوٹتا کب ہے اسیر خوش زباں جیتے جی اپنی رہائی ہو چکی
خوش زباں کے قیدی کب آزاد ہوں گے، کہ زندہ رہتے ہی ان کی رہائی ہو جائے گی۔
3
आगे हो मस्जिद के निकली उस की राह शैख़ से अब पारसाई हो चुकी
آگے ہو مسجد کے نکلی اس کی راہ شیخ سے اب پارسائی ہو چکی
مسجد سے آگے، اس کی راہ نکل آئی ہے۔ اب وہ شیخ سے پارسی ہو چکی ہے۔
4
दरमियाँ ऐसा नहीं अब आईना मेरे उस के अब सफ़ाई हो चुकी
درمیاں ایسا نہیں اب آئینہ میرے اس کے اب صفائی ہو چکی
درمیان ایسا کوئی آئینہ نہیں ہے، میرے اُس کے اب صفائی ہو چکی ہے۔
5
एक बोसा माँगते लड़ने लगे इतने ही में आश्नाई हो चुकी
ایک بوسہ مانگتے لڑنے لگے اتنے ہی میں آشنائی ہو چکی
جیسے ہی انہوں نے لڑنے کے لیے ایک بوسہ مانگا، وہ اس قدر میں ہی مطمئن ہو چکے تھے۔
6
बीच में हम ही न हों तो लुत्फ़ क्या रहम कर अब बेवफ़ाई हो चुकी
بیچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا رحم کر اب بے وفائی ہو چکی
بِچ میں ہم ہی نہ ہوں تو لطف کیا؟ رحم کر، اب بے وفائی ہو چکی۔
7
आज फिर था बे-हमीयत 'मीर' वाँ कल लड़ाई सी लड़ाई हो चुकी
آج پھر تھا بے حمیت میرؔ واں کل لڑائی سی لڑائی ہو چکی
آج پھر تم بے حمیّت ہو، میر۔ کل کی لڑائی تو ایک جنگ جیسی تھی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

ताब-ए-दिल सर्फ़-ए-जुदाई हो चुकी | Sukhan AI