غزل
ता-ब मक़्दूर इंतिज़ार किया
ता-ब मक़्दूर इंतिज़ार किया
یہ غزل محبت اور انتظار کے جذباتی اتار چڑھاؤ کا بیان ہے۔ اس میں دنیا کی دشمنی اور ایسے محبوب کی بے وفائی کا गहरा दर्द بیان کیا گیا ہے۔ شاعر تجویز کرتا ہے کہ یہ وہم کا کارخانہ ہے، اور ایک ناو نے اس کے سِدرے کے اندھیرے تک شکار کیا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
ता-ब मक़्दूर इंतिज़ार किया
दिल ने अब ज़ोर बे-क़रार किया
دل نے تقدیر کا صبر برداشت کیا ہے، اب اس نے بے قرار طاقت حاصل کر لی ہے۔
2
दुश्मनी हम से की ज़माने ने
कि जफ़ाकार तुझ सा यार किया
زمانے نے ہم سے دشمنی کی، اور تو نے، اے دوست، جفاکار بن کر ایسا برتاؤ کیا۔
3
ये तवहहुम का कारख़ाना है
याँ वही है जो ए'तिबार किया
یہ وہم کا کارخانہ ہے، وہی ہے جس پر اعتبار کیا۔
4
एक नावक ने उस की मिज़्गाँ के
ताएर-ए-सिदरा तक शिकार किया
اس کی مژگاں کے ایک ناوک (تیر یا شکاری پرندے) نے طائر سدرہ تک شکار کیا۔
5
सद-रग-ए-जाँ को ताब दे बाहम
तेरी ज़ुल्फ़ों का एक तार किया
میری جان کے جوہر سے، تم نے اپنے زلفوں کا ایک تار لے لیا ہے۔
6
हम फ़क़ीरों से बे-अदाई क्या
आन बैठे जो तुम ने प्यार किया
ہم فقیروں سے بے ادبی کیا، آن بیٹھے جو تم نے پیار کیا۔ (اس کا مطلب ہے کہ آپ نے ہمیں اتنا پیار کیا کہ ہم خود فقیروں سے بھی زیادہ بے باک اور جرات مند ہو گئے ہیں۔)
7
सख़्त काफ़िर था जिन ने पहले 'मीर'
मज़हब-ए-इश्क़ इख़्तियार किया
وہ 'میر' جو پہلے سخت کافر تھا، نے عشق کے مذہب کو اختیار کیا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
