غزل
सुख़न मुश्ताक़ है आलम हमारा
सुख़न मुश्ताक़ है आलम हमारा
یہ غزل ایک گہرا جذباتی اور فلسفیانہ غور و فکر ہے۔ شاعر وجودی درد، جدائی، اور هستی کے بنیادی سوالات کا اظہار کرتا ہے، جس میں یہ احساس شامل ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کا ایک گہرا جذباتی اور روحانی معنی ہے۔ یہ انسانی دکھ کی حالت کو زندگی کی فانیت اور کائنات کی وسعت کے پس منظر میں بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
सुख़न मुश्ताक़ है आलम हमारा
बहुत आलम करेगा ग़म हमारा
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
بہت عالم کرے گا غم ہمارا
میرا دل خوبصورت الفاظ کے لیے بے چین ہے، اے عالم؛ یہ دنیا یقیناً ہمیں بہت غم دے گی۔
2
पढ़ेंगे शेर रो रो लोग बैठे
रहेगा देर तक मातम हमारा
پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے
رہے گا دیر تک ماتم ہمارا
ہم پڑھیں گے، شیر رو رو لوگ بیٹھے رہیں گے، ہمارا ماتم دیر تک رہے گا۔
3
नहीं है मर्जा-ए-आदम अगर ख़ाक
किधर जाता है क़द्द-ए-ख़म हमारा
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاک
کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
اگر مرجعِ آدم اگر خاک نہیں ہے تو ہمارا قَدِّ خَم کہاں جاتا ہے؟
4
ज़मीन ओ आसमाँ ज़ेर-ओ-ज़बर है
नहीं कम हश्र से ऊधम हमारा
زمین و آسماں زیر و زبر ہے
نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا
زمین و آسمان، زیر و اوپر، ہمارے عُدہم کے تابع ہیں।
5
किसू के बाल दरहम देखते 'मीर'
हुआ है काम-ए-दिल बरहम हमारा
کسو کے بال درہم دیکھتے میرؔ
ہوا ہے کام دل برہم ہمارا
میر کہتے ہیں کہ کسی کے بال درہم سے دیکھ کر میرا دل کام میں آ گیا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
