غزل
शेर के पर्दे में मैं ने ग़म सुनाया है बहुत
शेर के पर्दे में मैं ने ग़म सुनाया है बहुत
یہ غزل بتاتی ہے کہ شاعر نے شیر کے سامنے اپنا بہت سارا غم سنایا ہے، اور کسی نہ کسی نے اس کے دل کو رلا دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اب اسے بنا کسی وجہ کے سانس بہ سانس ایک بہت درد اور رنج سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ آخر میں، وہ کہتا ہے کہ عشق کا دل کسی سے نہیں جُڑتا، حالانکہ ظاہری طور پر غمگین رہنا اسے بہت اچھا لگتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
शेर के पर्दे में मैं ने ग़म सुनाया है बहुत
मरसिए ने दिल के मेरे भी रुलाया है बहुत
شعر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت
مرثیے نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت
شیر کے پردے میں میں نے غم سنایا ہے بہت؛ مرثیوں نے دل کے میرے بھی رلایا ہے بہت۔
2
बे-सबब आता नहीं अब दम-ब-दम आशिक़ को ग़श
दर्द खींचा है निहायत रंज उठाया है बहुत
بے سبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو غش
درد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
بِسَبب آتا نہیں اب دم بہ دم عاشق کو گش؛ درد کھینچا ہے نہایت رنج اٹھایا ہے بہت
3
वादी ओ कोहसार में रोता हूँ ड़ाढें मार मार
दिलबरान-ए-शहर ने मुझ को सताया है बहुत
وادی و کہسار میں روتا ہوں ڈاڑھیں مار مار
دلبران شہر نے مجھ کو ستایا ہے بہت
میں کوہسار میں روتا ہوں اور اپنے اعضاء پر ضرب لگاتا ہوں، کیونکہ شہر کی محبوبہ نے مجھے بہت تکلیف دی ہے۔
4
वा नहीं होता किसू से दिल गिरफ़्ता इश्क़ का
ज़ाहिरन ग़मगीं उसे रहना ख़ुश आया है बहुत
وا نہیں ہوتا کسو سے دل گرفتہ عشق کا
ظاہراً غمگیں اسے رہنا خوش آیا ہے بہت
وا نہیں ہوتا کسی سے دل گرفتار عشق کا، ظاہرن غمگین اسے رہنا خوش آیا ہے بہت۔
5
'मीर' गुम-गश्ता का मिलना इत्तिफ़ाक़ी अम्र है
जब कभू पाया है ख़्वाहिश-मंद पाया है बहुत
میرؔ گم گشتہ کا ملنا اتفاقی امر ہے
جب کبھو پایا ہے خواہش مند پایا ہے بہت
شاعر میر کہتے ہیں کہ گم شدہ کا ملنا ایک اتفاقی امر ہے؛ جب کبھی کچھ پایا ہے، تو خواہش مند بہت کچھ پا لیتے ہیں۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
