غزل
दिल में भरा ज़-बस-कि ख़याल-ए-शराब था
दिल में भरा ज़-बस-कि ख़याल-ए-शराब था
غزل کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دل صرف شراب کے خیال سے بھرا تھا، اور گویا دل کے گھر میں پانی موجود ہے۔ شاعر محبوب کو کہتا ہے کہ دنیا کی لہروں میں ابھی سے مستی کرتا رہے، کیونکہ موت کے بعد یہ سب ایک فوارے کی طرح بابل ہو گا۔ یہ تمام دنیاوی زندگی عارضی ہے، اور آخر میں یہ احساس ہو گا کہ یہ سارا جہاں بھی ایک خواب تھا۔
نغمہ سنیں
1
दिल में भरा ज़-बस-कि ख़याल-ए-शराब था
मानिंद आइने के मिरे घर में आब था
دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا
مانند آئنے کے مرے گھر میں آب تھا
میرے دل میں صرف شراب کا خیال بھرا تھا، جیسے میرے گھر کے آینے میں پانی ہو۔
2
मौजें करे है बहर-ए-जहाँ में अभी तो तू
जानेगा बा'द-ए-मर्ग कि आलम हबाब था
موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو تو
جانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا
ابھی تو تجھے جہاں کے سمندر میں موجیں کر رہا ہے، مگر موت کے بعد تو تجھے معلوم ہوگا کہ یہ سب کچھ محض جھاگ تھا۔
3
उगते थे दस्त-ए-बुलबुल-ओ-दामान गुल बहम
सहन-ए-चमन नमूना-ए-यौम-उल-हिसाब था
اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہم
صحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا
بلبل کے دست اور گل کے دامن سے جو چیزیں اُگتی تھیں، وہ دراصل یومِ حساب کا محض ایک نمونہ تھیں۔
4
टुक देख आँखें खोल के उस दम की हसरतें
जिस दम ये सूझेगी कि ये आलम भी ख़्वाब था
ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیں
جس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا
تُک دیکھ آنکھیں کھول کے اُس دم کی حسرتیں، جس دم یہ سُجے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا۔
5
दिल जो न था तो रात ज़-ख़ुद-रफ़तगी में 'मीर'
गह इंतिज़ार ओ गाह मुझे इज़्तिराब था
دل جو نہ تھا تو رات ز خود رفتگی میں میرؔ
گہہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا
اگر میرا دل آپ سے اتنی گہرائی سے جڑا نہ ہوتا، تو رات میں نہ یہ تنہا رَفتگی ہوتی اور نہ یہ بے چینی کا انتظار ہوتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
