غزل

आए हैं 'मीर' मुँह को बनाए ख़फ़ा से आज

आए हैं 'मीर' मुँह को बनाए ख़फ़ा से आज
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک شاعر کی بے چینی اور مایوسی کا اظہار کرتی ہے، جو بے وفائی اور زندگی کے غیر یقینی موڑ پر غور کرتا ہے۔ اشعار میں وہ دل کی تلخ حقیقتوں اور مایوسی کے احساس کو بیان کرتا ہے، اور زندگی کی مشکلات سے نجات کی خواہش کا بھی اظہار کرتا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
आए हैं 'मीर' मुँह को बनाए ख़फ़ा से आज शायद बिगड़ गई है कुछ उस बेवफ़ा से आज
آئے ہیں میرؔ منہ کو بنائے خفا سے آج شاید بگڑ گئی ہے کچھ اس بے وفا سے آج
میر آج ایسے آئے ہیں کہ ان کا چہرہ ناراض اور خفا لگ رہا ہے؛ شاید آج کسی بے وفا سے ان کا جھگڑا ہو گیا ہے۔
2
वाशुद हुई न दिल को फ़क़ीरों के भी मिले खुलती नहीं गिरह ये कसू की दुआ से आज
واشد ہوئی نہ دل کو فقیروں کے بھی ملے کھلتی نہیں گرہ یہ کسو کی دعا سے آج
واشُد نے نہ دل کو فقیروں کا بھی جھکایا، اور آج یہ گُتھی کَسُو کی دعا سے نہیں کھلتی۔
3
जीने में इख़्तियार नहीं वर्ना हम-नशीं हम चाहते हैं मौत तो अपनी ख़ुदा से आज
جینے میں اختیار نہیں ورنہ ہم نشیں ہم چاہتے ہیں موت تو اپنی خدا سے آج
اگر مجھے جینے میں اختیار ہوتا، تو ہم-نشی ہم اپنی خدا سے آج موت مانگتے۔
4
साक़ी टुक एक मौसम-ए-गुल की तरफ़ भी देख टपका पड़े है रंग चमन में हवा से आज
ساقی ٹک ایک موسم گل کی طرف بھی دیکھ ٹپکا پڑے ہے رنگ چمن میں ہوا سے آج
شاعر کہہ رہا ہے کہ اگرچہ نظر پھولوں کے موسم کی طرف ہو، پھر بھی آج ہوا سے رنگ باغ میں ٹپک رہا ہے۔
5
था जी में उस से मिलिए तो क्या क्या न कहिए 'मीर' पर कुछ कहा गया न ग़म-ए-दिल हया से आज
تھا جی میں اس سے ملیے تو کیا کیا نہ کہیے میرؔ پر کچھ کہا گیا نہ غم دل حیا سے آج
کاش میں اس سے ملتا تو کیا کیا کہتا 'میر'، پر آج غمِ دل حیا سے کچھ کہہ نہ پایا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.