غزل

क्या कहें अपनी उस की शब की बात

क्या कहें अपनी उस की शब की बात
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل اس پراسرار محبت کی بات کرتی ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ شاعر پوچھتے ہیں کہ محبوب کی شب کی بات کیا کہی جائے، اور جو کچھ بھی کہا جائے، وہ بھی ادھورا ہی لگے گا۔ یہ غزل آخر کار اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر شخص کی نظروں اور باتوں میں ایک گہرا، نہ کہی سچائی چھپی ہوتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क्या कहें अपनी उस की शब की बात कहिए होवे जो कुछ भी ढब की बात
کیا کہیں اپنی اس کی شب کی بات کہیے ہووے جو کچھ بھی ڈھب کی بات
اپنی اُس کی شب کی بات کیا کہیں، بس آپ کہیے جو دن کی کوئی بھی بات ہو۔
2
अब तो चुप लग गई है हैरत से फिर खुलेगी ज़बान जब की बात
اب تو چپ لگ گئی ہے حیرت سے پھر کھلے گی زبان جب کی بات
اب تو خاموش ہو گئے ہو حیرت سے؛ زبان پھر کھلے گی جب وقت ہو گا۔
3
नुक्ता-दानान-ए-रफ़्ता की न कहो बात वो है जो होवे अब की बात
نکتہ دانان رفتہ کی نہ کہو بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات
نقطہ داناںِ رَفتہ کی نہ کہو، بات وہ ہے جو ہووے اب کی بات۔ اس کا مطلب ہے کہ گزرے ہوئے وقت کے راز یا باتیں نہ کہو، بلکہ صرف موجودہ وقت کی باتوں پر بات کرو۔
4
किस का रू-ए-सुख़न नहीं है उधर है नज़र में हमारी सब की बात
کس کا روئے سخن نہیں ہے ادھر ہے نظر میں ہماری سب کی بات
اے، کس کا رُو-ए-سخن نہیں ہے اُدھر، ہے نظر میں ہماری سب کی بات۔
5
ज़ुल्म है क़हर है क़यामत है ग़ुस्से में उस के ज़ेर-ए-लब की बात
ظلم ہے قہر ہے قیامت ہے غصے میں اس کے زیر لب کی بات
کیا یہ ظلم ہے، یا قہر ہے، یا قیامت ہے؟ / غصے میں اس کے زیرِ لب کی بات۔
6
कहते हैं आगे था बुतों में रहम है ख़ुदा जानिए ये कब की बात
کہتے ہیں آگے تھا بتوں میں رحم ہے خدا جانیے یہ کب کی بات
شایر کہتے ہیں کہ بتوں میں پہلے بھی رحم تھا؛ اے خدا جان لو کہ یہ بات کتنی پرانی ہے۔
7
गो कि आतिश-ज़बाँ थे आगे 'मीर' अब की कहिए गई वो तब की बात
گو کہ آتش‌ زباں تھے آگے میرؔ اب کی کہیے گئی وہ تب کی بات
گو کہ آتش-زبان تھے آگے 'میر'، اب کی کہیے گئی وہ تب کی بات۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ میر، پہلے آپ کے اشعار میں آگ جیسی ज़बान (یعنی جوش اور طاقت) تھی، لیکن اب وہ وقت گزر چکا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.