غزل
किस शाम से उठा था मिरे दिल में दर्द सा
किस शाम से उठा था मिरे दिल में दर्द सा
یہ غزل دل میں اٹھے درد کے احساس سے شروع ہوتی ہے، جس میں شاعر اپنی اداس اور بھٹکتی ہوئی حالت کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عشق کے راستے پر جانے کے بعد بھی اسے وہ مطلوبہ نتیجہ نہیں ملا، اور وہ اپنے محبوب کی یاد میں ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔
نغمہ سنیں
1
किस शाम से उठा था मिरे दिल में दर्द सा
सो हो चला हूँ पेशतर-अज़-सुब्ह सर्द सा
کس شام سے اٹھا تھا مرے دل میں درد سا
سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا
کس شام سے اٹھا تھا میرے دل میں درد سا، سو ہو چلا ہوں پیشتر از صبح سرد سا۔
2
बैठा हूँ जूँ ग़ुबार-ए-ज़ईफ़ अब वगर्ना में
फिरता रहा हूँ गलियों में आवारा-गर्द सा
بیٹھا ہوں جوں غبار ضعیف اب وگرنہ میں
پھرتا رہا ہوں گلیوں میں آوارہ گرد سا
میں یا تو اپنی کمزوری کی دھول میں بیٹھا ہوں، ورنہ میں گلیوں میں ایک آوارہ، دھول بھرے شخص کی طرح گھومتا رہتا ہوں۔
3
क़स्द-ए-तरीक़-ए-इश्क़ किया सब ने बा'द-ए-क़ैस
लेकिन हुआ न एक भी उस रह-नवर्द सा
قصد طریق عشق کیا سب نے بعد قیس
لیکن ہوا نہ ایک بھی اس رہ نورد سا
قیس کے بعد، سب نے عشق کا راستہ اختیار کیا، مگر کوئی بھی اس رہنورند جیسا نہیں تھا۔
4
हाज़िर यराक़-ए-बे-मज़गी किस घड़ी नहीं
मा'शूक़ कुछ हमारा है आशिक़-नबर्द सा
حاضر یراق بے مزگی کس گھڑی نہیں
معشوق کچھ ہمارا ہے عاشق نبرد سا
اے میرے محبوب، تمہاری غیرت کا نشہ کس گھڑی نہیں ہوتا؟ میرے محبوب، تم ایک ایسے عاشق جیسے ہو جو پیدا نہیں ہوا۔
5
क्या 'मीर' है यही जो तिरे दर पे था खड़ा
नमनाक-चश्म-ओ-ख़ुश्क-लब ओ रंग ज़र्द सा
کیا میرؔ ہے یہی جو ترے در پہ تھا کھڑا
نمناک چشم و خشک لب و رنگ زرد سا
کیا 'میر' ہے یہی جو تیرے در پہ تھا کھڑا، نمناک چشم و خشک لب او رنگ زرد سا؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
