غزل
जुदा जो पहलू से वो दिलबर यगाना हुआ
जुदा जो पहलू से वो दिलबर यगाना हुआ
یہ غزل محبوب سے جدائی کے درد اور اس سے پیدا ہونے والے گہرے جذباتی اور ذہنی اذیت کا بیان ہے۔ اشعار میں ایک ایسے زمانے کا ذکر ہے جو فتنہ و آفت سے خالی نہیں، جہاں محبت کی چاہت نے اسے شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ بالآخر، شاعر اپنی خواہشات اور احساسات میں کھو गया है, और دل کا یہ فراق ایک گہرا درد بن چکا ہے۔
نغمہ سنیں
1
जुदा जो पहलू से वो दिलबर यगाना हुआ
तपिश की याँ तईं दिल ने कि दर्द शाना हुआ
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
تپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
جب محبوب نے کسی اور پہلو سے جگایا، تو تپش کی آگ میں دل درد سے سجا ہوا।
2
जहाँ को फ़ित्ने से ख़ाली कभू नहीं पाया
हमारे वक़्त में तो आफ़त ज़माना हुआ
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایا
ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
جہاں کو فتنے سے خالی کبھی نہیں پایا، یعنی کسی جگہ کو کبھی بھی فتنوں سے پاک نہیں کیا جا سکا۔ ہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا، جس کا مطلب ہے کہ ہمارے زمانے میں تو پورا دور ہی ایک آفت بن گیا ہے۔
3
ख़लिश नहीं कसो ख़्वाहिश की रात से शायद
सरिश्क-ए-यास के पर्दे में दिल रवाना हुआ
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شاید
سرکش یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
شاید، خواش کی رات سے، میرا دل مایوسی کے پردے میں روانہ ہوا۔
4
हम अपने दिल की चले दिल ही में लिए याँ से
हज़ार हैफ़ सर-ए-हर्फ़ उस से वा न हुआ
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سے
ہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یہاں سے، ہزار حرف سرِ حرف اس سے وا نہ ہوا۔
5
खुला नशे में जो पगड़ी का पेच उस की 'मीर'
समंद-ए-नाज़ पे एक और ताज़ियाना हुआ
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میرؔ
سمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اُس کی 'میر'، سمندِ ناز پہ ایک اور تازیانہں ہوا ۔ (مطلب: میر کی پگڑی کا نشے میں کھل جانا، اور نفاست کے سمندر پر ایک اور غم کا تاغہ نظر آنا۔)
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
