غزل

दामान-ए-कोह में जो में डाढ़ मार रोया

दामान-ए-कोह में जो में डाढ़ मार रोया
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل زندگی کے تجربات اور ٹوٹے وعدوں کے درد کو بیان کرتی ہے، جہاں وفا اور بھروسہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہر جگہ رونے کی جگہ تھی، اور اس نے اپنا سارا غم ایک بار میں رو دیا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
दामान-ए-कोह में जो में डाढ़ मार रोया इक अब्र वाँ से उठ कर बे-इख़्तियार रोया
دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا اک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا
پہاڑ کے دامن میں جو رونا رو رہا تھا، ایک بادل سے اٹھ کر بے اختیار رویا۔
2
पड़ता न था भरोसा अहद-ए-वٖफ़ा-ए-गुल पर मुर्ग़-ए-चमन न समझा मैं तो हज़ार रोया
پڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پر مرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا
میرا کبھی بھی اعتماد گل کی وفاداری کے عہد پر نہیں ہوا؛ اے چمن کے چھوٹے پرندے، میں تو ہزار بار رویا۔
3
हर गुल ज़मीन याँ की रोने ही की जगह थी मानिंद-ए-अब्र हर जा मैं ज़ार ज़ार रोया
ہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھی مانند ابر ہر جا میں زار زار رویا
ہر گل زمیں یاں کی رونے ہی کی جگہ تھی، میں مانندِ ابر ہر جا میں زار زار رویا۔
4
थी मस्लहत कि रुक कर हिज्राँ में जान दीजे दिल खोल कर न ग़म में मैं एक बार रोया
تھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجے دل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا
یہ بہتر تھا کہ میں جدائی میں رک کر جان دے دوں، اور میں کبھی بھی غم میں دل کھول کر رویا نہیں۔
5
इक इज्ज़ इश्क़ इस का अस्बाब-ए-सद-अलम था कल 'मीर' से बहुत मैं हो कर दो-चार रोया
اک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھا کل میرؔ سے بہت میں ہو کر دو چار رویا
اس عشق کا سبب ایک سو نشاناتِ کرم تھے؛ کل میر سے میں تھوڑی دیر کے لیے بہت رویا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.