غزل
हर-दम तरफ़ है वैसे मिज़ाज करख़्त का
हर-दम तरफ़ है वैसे मिज़ाज करख़्त का
یہ غزل ایک ایسے مزاجِ کرخت (طبیعت) کی عکاسی کرتی ہے جو ہر لمحے ہر سمت میں بدلتا رہتا ہے۔ شاعر اپنے جذبات اور زندگی کی عدم استحکام کی تشبیہ ایک ایسے درخت سے دیتے ہیں، جس کا کوئی مستقل سایہ نہیں۔ یہ نظم عروج کی عارضی فطرت پر روشنی ڈالتی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ جو لوگ کبھی اعلیٰ عہدوں پر تھے، وہ اب معمولی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
نغمہ سنیں
1
हर-दम तरफ़ है वैसे मिज़ाज करख़्त का
टुकड़ा मिरा जिगर है कहो संग सख़्त का
ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا
ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت کا
ہر دم طرف ویسے مزاج کرخت کا، ٹکڑا میرا جگر ہے۔ کہو سنگ سخت کا۔
2
सब्ज़ान इन रू की जहाँ जल्वा-गाह थी
अब देखिए तो वाँ नहीं साया दरख़्त का
سبزان ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی
اب دیکھیے تو واں نہیں سایہ درخت کا
سَبْزاں ان رو کی جہاں جلوہ گاہ تھی، اب دیکھو تو وہاں نہیں سایہ درخت کا۔
3
जों बर्ग-हा-ए-लाला परेशान हो गया
मज़कूर क्या है अब जिगर लख़्त लख़्त का
جوں برگ ہائے لالہ پریشان ہو گیا
مذکور کیا ہے اب جگر لخت لخت کا
جب باغِ گلشن پریشان ہو گیا، تو اب دل کا کیا نام ہے، جو ٹکڑوں میں بکھر گیا؟
4
दिल्ली में आज भीक भी मिलती नहीं उन्हें
था कल तलक दिमाग़ जिन्हें ताज-ओ-तख़्त का
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
دِلّھی میں آج بھیگ بھی نہیں ملتی انہیں، جو کل تک تاج و تخت کا دماغ تھے۔
5
ख़ाक-ए-सियह से में जो बराबर हुआ हूँ 'मीर'
साया पड़ा है मुझ पे कसो तीरा-बख़्त का
خاک سیہ سے میں جو برابر ہوا ہوں میرؔ
سایہ پڑا ہے مجھ پہ کسو تیرہ بخت کا
خاکِ سیاہ سے میں جو برابر ہوا ہوں، میر، اس پر تمہاری قسمت کا سایہ پڑا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
