غزل

जो ये दिल है तो क्या सर-अंजाम होगा

जो ये दिल है तो क्या सर-अंजाम होगा
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل دل کی غیر یقینی فطرت اور اس کے نتائج پر سوال اٹھاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ یہ دل کیا سرانجام دے گا، کیونکہ جو چیزیں آنکھوں میں آ گئیں، ان کا دیدار بھی ایک دن عام ہو جائے گا۔ آخر میں، وہ بہت زیادہ بے پردہ حرکتیں کرنے سے منع کرتے ہیں، کیونکہ اس میں ظالم بھی بدنام ہو گا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
जो ये दिल है तो क्या सर-अंजाम होगा ता-ख़ाक भी ख़ाक आराम होगा
جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا تا خاک بھی خاک آرام ہوگا
اگر یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا، تا خاک بھی خاک آرام ہوگا۔
2
मिरा जी तो आँखों में आया ये सुनते कि दीदार भी एक दिन आम होगा
مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتے کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا
یہ سن کر کہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا، میرا جی تو آنکھوں میں آ گئیں۔
3
न होगा वो देखा जिसे कब्क तू ने वो इक बाग़ का सर्व-अंदाम होगा
نہ ہوگا وہ دیکھا جسے کبک تو نے وہ اک باغ کا سرو اندام ہوگا
جو قبض کیا گیا وہ نظر نہیں آئے گا؛ وہ تو بس ایک باغ کا مکمل تصور ہوگا۔
4
न निकला कर इतना भी बे-पर्दा घर से बहुत उस में ज़ालिम तो बदनाम होगा
نہ نکلا کر اتنا بھی بے پردہ گھر سے بہت اس میں ظالم تو بدنام ہوگا
گھر سے اتنا بے پردہ نہ نکلا کرو، ورنہ اس میں ظالم تو بدنام ہوگا۔
5
हज़ारों की याँ लग गईं छत से आँखें तू ऐ माह किस शब-ए-लब-ओ-बाम होगा
ہزاروں کی یاں لگ گئیں چھت سے آنکھیں تو اے ماہ کس شب لب بام ہوگا
ہزاروں کی رنگین یاں چھت سے آنکھوں پر پڑ گئی ہیں؛ اے محبوب، یہ لب و گالوں کی رات کیسی ہوگی۔
6
वो कुछ जानता होगा ज़ुल्फ़ों में फँसना जो कोई असीर ता-दाम होगा
جس شخص کو زلفوں میں پھنسنا آتا ہے، وہ یقیناً قسمت کے جادو کا قیدی ہوگا۔
7
जिगर-चाकी नाकामी दुनिया है आख़िर नहीं आए जो 'मीर' कुछ काम होगा
جگر چاکی ناکامی دنیا ہے آخر نہیں آئے جو میرؔ کچھ کام ہوگا
اس کا مطلب ہے کہ دنیا آخر کار ایک دل توڑ دینے والی ناکامی ہے؛ اگر میر نہیں آئے، تو کچھ نہیں ہوگا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.