غزل
शब था नालाँ अज़ीज़ कोई था
शब था नालाँ अज़ीज़ कोई था
یہ غزل پیاروں کی یادوں اور جدائی کے دکھ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ رات میں، یا کسی خاص شخص کی یاد میں، ایک عزیز کوئی تھا، جس کے خیال اس دل میں تھا۔ یہ رشتوں کی مٹھاس اور جدائی کے غم کو خوبصورت انداز میں پیش کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
शब था नालाँ अज़ीज़ कोई था
मुर्ग़-ए-ख़ुश-ख़्वाँ अज़ीज़ कोई था
شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا
مرغ خوش خواں عزیز کوئی تھا
کیا کوئی پیارا نالہ تھا، کیا کوئی پیارا پرندہ تھا؟
2
थी तुम्हारे सितम की ताब उस तक
सब्र जो याँ अज़ीज़ कोई था
تھی تمہارے ستم کی تاب اس تک
صبر جو یاں عزیز کوئی تھا
آپ کے ظلم کو برداشت کرنے کی طاقت صرف اُس کے پاس تھی جو آپ کو عزیز سمجھتا تھا۔
3
शब को उस का ख़याल था दिल में
घर में मेहमाँ अज़ीज़ कोई था
شب کو اس کا خیال تھا دل میں
گھر میں مہماں عزیز کوئی تھا
شَب کو اُس کا خیال تھا دل میں، کیونکہ گھر میں کوئی عزیز مہمان تھا۔
4
चाह बेजा न थी ज़ुलेख़ा की
माह-ए-कनआँ अज़ीज़ कोई था
چاہ بے جا نہ تھی زلیخا کی
ماہ کنعاں عزیز کوئی تھا
زلیخا کی خوبصورتی بے کار نہیں تھی؛ کنوان میں چاند جیسا کوئی عزیز تھا۔
5
अब तो उस की गली में ख़ार है लेक
'मीर' बे-जाँ अज़ीज़ कोई था
اب تو اس کی گلی میں خار ہے لیک
میرؔ بے جاں عزیز کوئی تھا
اب تو اُس کی گلی میں کانٹا ہے، اے میر، بے جان عزیز کوئی کیسے ہو سکتا تھا؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
