اب تو اس کی گلی میں خار ہے لیک — میر تقی میر

اب تو اس کی گلی میں خار ہے لیک میرؔ بے جاں عزیز کوئی تھا

“Now, in his street, there is a thorn, O Mir, How could I lose someone so dear?”

— میر تقی میر

معنی

اب تو اُس کی گلی میں کانٹا ہے، اے میر، بے جان عزیز کوئی کیسے ہو سکتا تھا؟

تشریح

یہ شعر دل کی مایوسی اور دھوکے کی بات کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ محبوب کی دنیا اب خطرناک ہے، جہاں خوبصورتی کے ساتھ دکھ بھی ہے۔ اور یہ اعتراف کہ کوئی بھی عزیز نہیں تھا، ایک گہرا دکھ ہے جو بے وُجود کے احساس کو ظاہر کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.