غزل

ख़ूब थे वे दिन कि हम तेरे गिरफ़्तारों में थे

ख़ूब थे वे दिन कि हम तेरे गिरफ़्तारों में थे
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل ان دنوں کو یاد کرتی ہے جب ہم تمہارے گِرفتاروں میں تھے، جب ہم غمگین اور اندوہ گین تھے۔ یہ بتاتی ہے کہ اب ہم اجنبیوں کے لیے بھی دشمنی جان چکے ہیں، اور پہلے کی طرح دوستوں میں بھی ایک ماحول ہو گیا تھا۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو بیماروں کے درمیان بھی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ख़ूब थे वे दिन कि हम तेरे गिरफ़्तारों में थे ग़म-ज़दों अंदोह-गीनों ज़ुल्म के मारों में थे
خوب تھے وے دن کہ ہم تیرے گرفتاروں میں تھے غم زدوں اندوہ گینوں ظلم کے ماروں میں تھے
वे दिन बहुत अच्छे थे जब हम आपके बंधक थे, जब हम غمگین، उदास और अत्याचार के शिकार लोगों के बीच थे।
2
दुश्मनी जानी है अब तो हम से ग़ैरों के लिए इक समाँ सा हो गया वो भी कि हम यारों में थे
دشمنی جانی ہے اب تو ہم سے غیروں کے لیے اک سماں سا ہو گیا وہ بھی کہ ہم یاروں میں تھے
اب تو دشمنی ہمیں اجنبیوں کو معلوم ہے، مگر دوستوں کے لیے ایک مختلف ماحول بن گیا ہے۔
3
मत तबख़्तुर से गुज़र क़ुमरी हमारी ख़ाक पर हम भी इक सर्व-ए-रवाँ के नाज़-बरदारों में थे
مت تبختر سے گزر قمری ہماری خاک پر ہم بھی اک سرو رواں کے ناز برداروں میں تھے
اے چاند، ہماری خاک پر مت گزر، جو تختور سے گزرتی ہے۔ / ہم بھی ایک سر وے رواں کے ناز برداروں میں تھے۔
4
मर गए लेकिन न देखा तू ने ऊधर आँख उठा आह क्या क्या लोग ज़ालिम तेरे बीमारों में थे
مر گئے لیکن نہ دیکھا تو نے اودھر آنکھ اٹھا آہ کیا کیا لوگ ظالم تیرے بیماروں میں تھے
مر گئے لیکن نہ دیکھا تو نے ادھر آنکھ اٹھ، آہ کیا کیا لوگ ظالم تھے تیرے بیماران میں۔
5
शैख़-जी मिंदील कुछ बिगड़ी सी है क्या आप भी रिंदों बाँकों मय-कशों आशुफ़्ता दस्तारों में थे
شیخ جی مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھی رندوں بانکوں میکشوں آشفتہ دستاروں میں تھے
شیخ جی، مندیل کچھ بگڑی سی ہے کیا آپ بھی رندوں، بانکوں، مے کشوں، آشفتا دستاروں میں تھے؟
6
गरचे जुर्म-ए-इश्क़ ग़ैरों पर भी साबित था वले क़त्ल करना था हमें हम ही गुनहगारों में थे
گرچہ جرم عشق غیروں پر بھی ثابت تھا ولے قتل کرنا تھا ہمیں ہم ہی گنہ گاروں میں تھے
اس کا مطلب ہے کہ اگرچہ عشق کا جرم اجنبیوں پر بھی ثابت تھا، اے ولی، لیکن ہمیں قتل کرنا ہم خود گنہگار تھے۔
7
इक रहा मिज़्गाँ की सफ़ में एक के टुकड़े हुए दिल जिगर जो 'मीर' दोनों अपने ग़म-ख़्वारों में थे
اک رہا مژگاں کی صف میں ایک کے ٹکڑے ہوئے دل جگر جو میرؔ دونوں اپنے غم خواروں میں تھے
مِزگاں کی صف میں اک کے ٹکڑے ہوئے، دل جگر جو ’میر‘ دونوں اپنے غم خواروں میں تھے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.