غزل

पीरी में क्या जवानी के मौसम को रोइए

पीरी में क्या जवानी के मौसम को रोइए
میر تقی میر· Ghazal· 7 shers

یہ غزل زندگی کی عارضی خوبصورتی اور حال میں جینے کی اہمیت کا پیغام دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ جوانی کے موسم پر غم کرنا بے فائدہ ہے، کیونکہ صبح ہونے والی ہے اور زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ اس میں وقت کو ضائع نہ کرنے اور محبت اور زندگی کے حقیقی تجربات کو اہمیت دینے کی بات کہی گئی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
पीरी में क्या जवानी के मौसम को रोइए अब सुब्ह होने आई है इक दम तो सोइए
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے اب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سوئیے
بستر پر جوانی کے موسم پر رونا نہ، اب صبح ہونے آئی ہے، آ کر سو جا۔
2
रुख़्सार उस के हाए रे जब देखते हैं हम आता है जी में आँखों को उन में गड़ोइए
رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہم آتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے
جب ہم اس کے رخسار کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ہماری آنکھیں ان آنکھوں میں کھو جاتی ہیں، جہاں ہم انہیں چھپانا چاہتے ہیں۔
3
इख़्लास दिल से चाहिए सज्दा नमाज़ में बे-फ़ाएदा है वर्ना जो यूँ वक़्त खोइए
اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میں بے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے
نماز میں سجدے کے لیے دل سے اخلاص چاہیے، ورنہ یوں وقت ضائع کرنا بے فائدہ ہے۔
4
किस तौर आँसुओं में नहाते हैं ग़म-कशाँ इस आब-ए-गर्म में तो न उँगली डुबोइए
کس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم کشاں اس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے
شاعر پوچھتا ہے کہ تم کس طرح آنسوؤں میں نہاتے ہو، اے غمکشاں۔ اس گرم پانی میں تو اپنی انگلی نہ ڈبو۔
5
मतलब को तो पहुँचते नहीं अंधे के से तौर हम मारते फिरे हैं यू नहीं टप्पे टोइए
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طور ہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپے ٹویئے
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طور، ہم مارتے فیرے ہیں یو نہیں ٹپّے ٹوئیے۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ اندھے شخص کے طریقے سے اصل بات یا مطلب سمجھنا ممکن نہیں ہے؛ ہم یہاں صرف وقت گزار رہے ہیں، اس لیے رات کو خراب نہ کرو۔
6
अब जान जिस्म-ए-ख़ाकी से तंग आ गई बहुत कब तक इस एक टोकरी मिट्टी को ढोईए
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
اب جان جسمِ خاکی سے تنگ آ گئی بہت، کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھوئیے۔
7
आलूदा उस गली की जो हूँ ख़ाक से तो 'मीर' आब-ए-हयात से भी न वे पाँव धोइए
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔ آب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے
آلُو دا اُس گلی کی جو میں ہوں خاک سے تو 'میر'، آبِ حیات سے بھی نہ وہ پاؤں دھوئیے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری ہستی یا وجود جو آپ کے لیے محض دھول کے برابر ہے، اس لیے میرے قدموں کو زندگی کے پانی سے بھی نہ دھونا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.