غزل
देखेगा जो तुझ रो को सो हैरान रहेगा
देखेगा जो तुझ रो को सो हैरान रहेगा
یہ غزل کسی کے پراسرار اور شاندار کردار کا بیان ہے، جو اپنی منفرد موجودگی سے ہر دیکھنے والے کو حیران کر دے گا۔ شاعر کہتا ہے کہ اگرچہ وعدے ٹوٹ جائیں اور ظلم کا ماحول بچھائے رہے، لیکن ایک خاص قسم کا اٹوٹ جذباتی تعلق اور سہارا ہمیشہ قائم رہے گا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
देखेगा जो तुझ रो को सो हैरान रहेगा
वाबस्ता तिरे मू का परेशान रहेगा
جو شخص آپ کے آنسو دیکھے گا وہ حیران ہوگا، اور آپ کے ہونٹوں سے جڑے لوگ پریشان رہیں گے۔
2
वा'दा तो किया इस से दम-ए-सुब्ह का लेकिन
उस दम तईं मुझ में भी अगर जान रहेगा
میں نے صبح کی پہلی کرن سے یہ وعدہ کیا تھا، لیکن اگر اس صبح تک مجھ میں جان باقی رہتی ہے۔
3
मुनइ'म ने बना ज़ुल्म की रख घर तो बनाया
पर आप कोई रात ही मेहमान रहेगा
منیم نے بنا ظلم کی رکھ گھر تو بنایا، پر آپ کوئی رات ہی مہمان رہیں گے۔
4
छूटूँ कहीं ईज़ा से लगा एक ही जल्लाद
ता-हश्र मिरे सर पे ये एहसान रहेगा
میں کہیں اس جگہ سے بچ نکلوں گا، جو صرف ایک جلاد سے جڑا ہے؛ یہ احسان تمہارے سر پر قیامت کے دن تک رہے گا۔
5
चिमटे रहेंगे दश्त-ए-मोहब्बत में सर-ओ-तेग़
महशर तईं ख़ाली न ये मैदान रहेगा
عشق کے صحرا میں چمٹے حملہ کرنے کے لیے تیار رہیں گے، اور یہ میدانِ محشر خالی نہیں رہے گا۔
6
जाने का नहीं शोर सुख़न का मिरे हरगिज़
ता-हश्र जहाँ में मिरा दीवान रहेगा
جانے کا نہیں شور سخن کا میرے ہرگز۔ تا-حشر جہاں میں میرا دیوان رہے گا۔
7
दिल देने की ऐसी हरकत उन ने नहीं की
जब तक जियेगा 'मीर' पशेमान रहेगा
انہوں نے دل دینے جیسی کوئی حرکت نہیں کی، جب تک میر زندہ رہے گا، وہ پشیمان رہے گا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
