غزل

क़रार दिल का ये काहे को ढंग था आगे

क़रार दिल का ये काहे को ढंग था आगे
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل دل کے بے قرار ہونے اور زندگی کے بے ثبات حالات کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم نے اپنے چہروں پر رنگ رکھا تھا اور زخموں کو سہہ لیا، مگر اب یہاں کی ہر بات اور ہر تعلق کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
क़रार दिल का ये काहे को ढंग था आगे हमारे चेहरे के ऊपर भी रंग था आगे
قرار دل کا یہ کاہے کو ڈھنگ تھا آگے ہمارے چہرے کے اوپر بھی رنگ تھا آگے
دل کی سکون کا یہ انداز آگے کس کام کا تھا؟ ہمارے چہروں پر بھی تو رنگ تھا آگے۔
2
उठाएँ तेरे लिए बद-ज़बानियाँ उन की जिन्हों की हम को ख़ुशामद से नंग था आगे
اٹھائیں تیرے لیے بد زبانیاں ان کی جنہوں کی ہم کو خوشامد سے ننگ تھا آگے
تمہارے لیے ہم ان لوگوں کی بدزبانییں اٹھائیں گے، جنہیں ہماری چاپلوسی سے کوئی ضرورت نہیں تھی۔
3
हमारी आहों से सीने पे हो गया बाज़ार हर एक ज़ख़्म का कूचा जो तंग था आगे
ہماری آہوں سے سینے پہ ہو گیا بازار ہر ایک زخم کا کوچہ جو تنگ تھا آگے
ہماری آہوں سے سینے پر بازار ہو گیا، اور ہر زخم کا گلی جو پہلے تنگ تھی، وہ اب آگے کھل گئی۔
4
रहा था शम्अ' से मज्लिस में दोष कितना फ़र्क़ कि जल बुझे थे ये हम पर पतंग था आगे
رہا تھا شمع سے مجلس میں دوش کتنا فرق کہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
رہا تھا شمع سے مجلس میں داغ کتنا فرق کہ جل بجھے تھے یہ ہم پر پتنگ تھا آگے
5
किया ख़राब तग़ाफ़ुल ने उस के वर्ना 'मीर' हर एक बात पे दुश्नाम-ओ-संग था आगे
کیا خراب تغافل نے اس کے ورنہ میرؔ ہر ایک بات پہ دشنام و سنگ تھا آگے
اگر محبوب کی غفلت نہ ہوتی، تو ہر بات دشمنی اور سنگت کا سبب ہوتی۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.