غزل
ताक़त नहीं है जी में नय अब जिगर रहा है
ताक़त नहीं है जी में नय अब जिगर रहा है
شاعر کہتے ہیں کہ میرے دل میں اب کوئی طاقت باقی نہیں رہی، اور میرا جگر بس رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا دل किसी بے وجہ کے ظلم کو سہہ رہا ہے، اور میرا دشمن اسے اپنی بے سلیقگی سے خون میں بھر رہا ہے۔ وہ بات کرتے ہیں کہ ایک دوست نے رات گزارنے کے لیے آنے کو کہا ہے، لیکن اب تو قیامت کا ہنگامہ صبح ہونے والا ہے۔
نغمہ سنیں
1
ताक़त नहीं है जी में नय अब जिगर रहा है
फिर दिल सितम-रसीदा इक ज़ुल्म कर रहा है
طاقت نہیں ہے جی میں نے اب جگر رہا ہے
پھر دل ستم رسیدہ اک ظلم کر رہا ہے
میرے جی میں اب کوئی طاقت نہیں، پھر بھی یہ دل جو ستم سے گزر چکا ہے، ایک ظلم کر رہا ہے۔
2
मारा है किस को ज़ालिम उस बे-सलीक़गी से
दामन तमाम तेरा लोहू में भर रहा है
مارا ہے کس کو ظالم اس بے سلیقگی سے
دامن تمام تیرا لوہو میں بھر رہا ہے
اے ظالم، یہ بے سلیقگی کس پر ہے؟ تیرا پورا دامن میرے خون میں بھیگ رہا ہے۔
3
पहुँचा था तेग़ खींचे मुझ तक जो बोले दुश्मन
क्या मारता है उस को ये आफी मर रहा है
پہنچا تھا تیغ کھینچے مجھ تک جو بولے دشمن
کیا مارتا ہے اس کو یہ آپھی مر رہا ہے
جب دشمن نے تیر کا کمان کھینچ کر مجھ تک پہنچا، تو اس نے کہا، 'یہ بیماری تمہیں کیا مارتی ہے؟'
4
आने कहा है मेरे ख़ुश-क़द ने रात गुज़रे
हंगामा-ए-क़यामत अब सुब्ह पर रहा है
آنے کہا ہے میرے خوش قد نے رات گزرے
ہنگامۂ قیامت اب صبح پر رہا ہے
میرے خوبصورت محبوب نے رات گزارنے کو کہا ہے؛ ہنگامۂ قیامت اب صبح پر ہے۔
5
चल हम-नशीं कि देखें आवारा 'मीर' को टक
ख़ाना-ख़राब वो भी आज अपने घर रहा है
چل ہم نشیں کہ دیکھیں آوارہ میرؔ کو ٹک
خانہ خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے
چلو ہمنشیں کہ دیکھیں آوارہ 'میر' کو ٹک
کھانا-خراب وہ بھی آج اپنے گھر رہا ہے۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ چلو ہم نشی (مستیخور) دیکھ لیں آوارہ 'میر' کو (اپنے) ٹھکانے پر، وہ بھی جو خراب تھا، آج اپنے گھر میں رہ رہا ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
