غزل

मुश्किल है होना रू-कश रुख़्सार की झलक के

मुश्किल है होना रू-कश रुख़्सार की झलक के
میر تقی میر· Ghazal· 5 shers

یہ غزل ایک دلکش اور نشیاتی حسن کی جھلک دیکھنے کی دشواری پر مبنی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ وہ تو محض ایک بشر ہے جو کسی الٰہی یا شاہی شخصیت کے سامنے اپنی کمزوری محسوس کرتا ہے۔ یہ دنیاوی رشتوں اور بندھنوں کی فانی حقیقت پر بات کرتی ہے، اور آخر میں شاعر اپنی آنسوؤں پر بھروسہ کرتے ہوئے زندگی کی تلخ حقیقت کو قبول کرتے ہیں۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
मुश्किल है होना रू-कश रुख़्सार की झलक के हम तो बशर हैं उस जा पर जुलते हैं मलक के
مشکل ہے ہونا روکش رخسار کی جھلک کے ہم تو بشر ہیں اس جا پر جلتے ہیں ملک کے
किसी محبوب کے رخسار کی جھلک دیکھنا مشکل ہے، کیونکہ ہم تو بشر ہیں جو کسی الٰہی چیز کے جلال میں جلتے ہیں۔
2
मरता है क्यूँ तो नाहक़ यारी बिरादरी पर दुनिया के सारे नाते हैं जीते-जी तिलक के
مرتا ہے کیوں تو ناحق یاری برادری پر دنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تلک کے
مرتا ہے کیوں تو نہ حق یاری برادری پر۔ دنیا کے سارے ناتے ہیں جیتے جی تِلک کے۔
3
कहते हैं गोर में भी हैं तीन रोज़ भारी जावें किधर इलाही मारे हुए फ़लक के
کہتے ہیں گور میں بھی ہیں تین روز بھاری جاویں کدھر الٰہی مارے ہوئے فلک کے
کہتے ہیں گُور میں بھی تین روز بہت مشکل ہوتے ہیں، جائیں کہاں، اے خدا، اس فلک سے جہاں موت کا راج ہے؟
4
लाते नहीं नज़र में गुलतानी गुहर को हम मो'तक़िद हैं अपने आँसू ही की ढलक के
لاتے نہیں نظر میں غلطانی گہر کو ہم معتقد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے
لاتے نہیں نظر میں گلتانی گہر کو، ہم مؤتقیّد ہیں اپنے آنسو ہی کی ڈھلک کے۔ (یعنی، جس طرح ایک خوشبودار پھول اپنی نظر نہیں جھکاتا، اسی طرح میں اپنے آنسو بہاتا ہوں۔)
5
कल इक मिज़ा निचोड़े तूफ़ान नूह आया फ़िक्र-ए-फ़िशार में हूँ 'मीर' आज हर पलक के
کل اک مژہ نچوڑے طوفان نوح آیا فکر فشار میں ہوں میرؔ آج ہر پلک کے
کل اک मिज़ा निचोڑے طوفان نُوح آیا، فکرِ فشار میں ہوں ’میر‘ آج ہر پلک کے۔ اس کا مطلب ہے کہ کل ایک موڈ (یا مزاج) سے نُوح کا طوفان آ گیا ہے، اور ’میر‘ آج ہر پلک کی فکرِ فشار (دباؤ/تکلیف) میں ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.